Skip to main content

بات چیت کے عمل میں کشمیر مسئلے کو ترجیح دینا لازمی یاسین ملک کا کھرم بجبہاڑہ میں عوامی جلسے سے خطاب

                                                           

 ا08 جون کھرم سرہامہجموں کشمیر کا مسئلہ انسانی المیہ کی ایک بدترین مثال ہے ۔اس مسئلے کا ترجیحی اور حتمی ح دنیا   ایک مستحکم اور مضبوط مستقبل کو یقینی بناسکتے ہیں: محمد یاسین ملک کا کھرم بجبہاڑہ میں عوامی جلسے سے خطابکے ساتھ ساتھ برصغیر کے حقیقی امن و استحکام کےلئے ضروری ہے۔ اِن باتوں کااظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جناب محمد یاسین ملک نے آج کھرم بجبہاڑہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یاسین صاحب ایک وفد جسمیں قائدین نور محمد کلوال،شوکت احمد بخشی،شیخ عبدالرشید،میر سراج الدین،امتیاز احمد بٹہ ،محمد اسلم شیخ ،بشیر کشمیری،پروفیسر جاوید، صدر ضلع اِسلام آباد محمد اسحاق گنائی، نائب صدر ضلع غلام قادر حیدر،غلام محمد ڈار اورمحمد اعظم زرگر،و غیرہ شامل تھے آج کھرم پہنچے تو لوگوں نے اُن کا والہانہ استقبال کیا۔ دَرگاہ حضرت بل کھرم میں نماز جمعہ کا خطبہ فرنٹ قائد جناب شوکت احمد بخشی نے دیا جنہوں نے قرآن و سنت رسولﷺ کی روشنی میں کئی مسائل کے حل کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔ نماز جمعہ کے بعد مرکزی چوک میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔ خراب موسم، سخت بارشوں اور زمین داری کے ایام ہونے کے باوجود مردو زن ،بچوں بزرگوں اور جوانوں کی بڑھی تعداد نے اس جلسے میں والہانہ شرکت کی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائد تحریک آزادی جناب محمد یاسین ملک نے خراب موسم اور باشوں کے باوجود لوگوں کی بھاری تعداد کی جانب سے اِظہار محبت کرنے اور جلسے میں شرکت کرنے پر تہہ دل سے شکریہ اَدا کیا اور کہا کہ یہی جذبہ اور جوش تحریک آزادی کے زندہ و موجود ہونے کی علامت ہے اور جب تک یہ جذبہ جاویدہے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی ہے۔یاسین صاحب نے کہا کہ ابھی چند روز کے اندر پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکٹری صاحبان آپس میں مل کر مسائل کا حل ڈھونڈنے کی سعی کرنے والے ہیں ۔ اس سلسلے میں پاکستان کے خارجہ سیکٹری بھارت آکر اپنے ہم منصب سے ملنے والے ہیں۔مربوط اور منظم بات چیت کا یہ عمل خوش آئند ہے اور ہم نے ایسے اقدامات کی ہمیشہ سراہنا کی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم ان دونوں ممالک کے حکمرانوں اور انہیں بات چیت پر راغب کرنے والی دنیا پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسئلہ جموں کشمیر کو حل کئے بناءدنیا اور برصغیر میں امن و استحکام اورتعمیر و ترقی کے خواب دیکھنا بھی محال ہے۔ یاسین صاحب نے کہا کہ بھارت اور پاکستان اپنے مسائل کے حل کےلئے جامع مزاکراتی عمل میں مشغول ہوچکے ہیں۔یہ ایک مستحسن عمل ہے لیکن ابھی تک اس عمل میںمسئلہ جموں کشمیر پر کوئی واضح پیش رفت اور توجہ(FOCUS)نظر نہیں آرہی ہے ۔ یاسین صاحب نے یقین ظاہر کیا کہ اس مزاکراتی عمل میں عنقریب کشمیر پر بھی FOCUS نظر آئے گا اور کشمیریوں کی فریقانہ اور مالکانہ حیثیت قبول کرتے ہوئے نیز اُن کی عملی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے اس مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے گا۔ یاسین صاحب نے کہا کہ حق یہ ہے کہ برصغیر میں پائدار امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کا ہر راستہ مسئلہ جموں کشمیر کے حل سے ہوکر ہی گزرتا ہے اور اس مسئلے کو طول دینے،اسے پس پشت ڈالنے اور اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جانے کا ہر عمل دنیا کے ساتھ ساتھ اس خطے میں مسلسل عدم استحکام اور بدامنی کا ذریعہ و موجب بنے گا۔یاسین صاحب نے یقین ظاہر کیا کہ عقل و دانش ،ہٹ دھرمی اور ©©’میں نہ مانوں‘ کے رویے پر غالب آئے گیاور مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے ذریعے ہم سب مل کر اپنی نئی نسل کےلئے ایک مستحکم اور مضبوط مستقبل کو یقینی بنائیں گے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ ۸۰۰۲ سے لیکر ۰۱۰۲ ءتک جموں کشمیر کے لوگوں نے پرامن اور جمہوری عوامی انقلاب بپا کیا اور جموں کشمیر کے سلسلے میں موجود پُر تشدد ریفرینس کو عدم تشدد سے بدل دیا۔ اس سلسلے میں اگرچہ ہمارے جوانوں پر گولیاں،شیل اور لاٹھیاں برسائیں گئی۔اگرچہ زندان خانوں کے دروازے کھول دئے گئے اور مظالم کی نئی داستانیں رقم کی گئیں لیکن اس کے باوجود ہمارے لوگوں خاص طور پر ہمارے جوانوں نے اپنی پُرامن راہ کو ترک نہیں کیا۔ یاسین صاحب نے کہا کہ اس تاریخی اقدام اور ثابت قدمی پر ہم اپنے معصوم جوانوں کو مبارک باد دیتے ہیں۔ ہم آج ۸۰۰۲،۹۰۰۲ اور ۰۱۰۲ ءمیں شہید ہونے والے ایک ایک معصوم جوان،بچے،بوڑھے اور بہن کو یاد کررہے ہیں جنہوں نے اپنے گرم گرم لہو کی ایک ایک بوند نچھاور کرکے تحریک آزادی کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔یاسین صاحب نے کہا کہ ہمارے بچوں کے مقدس لہو سے سیراب پرامن اور جمہوری جدوجہد کی قدر کرنا پر مہذب شخص اور قوم پر فرض ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ دنیا میں تشدد اور بدامنی کا خاتمہ چاہنے والے لوگ ہماری تاریخ ساز پُرامن جدوجہد کی قدر کریں گے اور بھارت و پاکستان کو راغب کریں گے کہ مسئلہ جموں کشمیر جیسے انسانی المیے کے حل کےلئے مثبت اور ترجیحی اقدامات اٹھائے                    جائی

Comments

Popular posts from this blog

End of boycott by media avoids a piquant situation, comes as a relief

GNS Jammu  Feb. 29, :  A strange situation which was unfortunately created by an affront by Presiding Officer of J&K Assembly to 4 th  Estate has finally been brought to close with media persons ending their protest. Peoples Democratic Party in the wake of this development expresses strong hope that not only will such piquant scenes be avoided. But it should augur well for the relationship of legislature and the  media.as  the latter ‘s role of public awareness and prevention of abuse in state-functioning cannot be underestimated. In a press statement a party spokesman said that PDP has always stood for free battle of ideas in which media has a significant place and they did not deserve the treatment that they met on publishing received information on alleged scams and misuse of authority by government functionaries and politicians .  The spokesman said when media rose against excessive behavior and uncalled for remarks  taking a princi...

Contact district administration if CRPF personnel indulge in excesses: Div Com

We are bound to taking action against erring CRPF personnel” DC Srinagar GNS Srinagar, March 07 : Coming down heavily on unbridled CRPF personnel for ransacking houses and religious places, Divisional Commissioner Kashmir, Dr Asghar Samoon Thursday appealed people to contact District administration in case CRPF personnel indulge in ransacking houses in any area. Meanwhile Deputy Commissioner Srinagar, Baseer Ahmed Khan said that he will look into the matter and will try to find out where ransacking has taken place.“Strict action will be taken against the erring CRPF personnel. I fail to understand how they act independently when standard operating procedures (SOP) have been set for them. I want to assure people that whosoever indulge in excesses will face the music,” Divisional Commissioner told adding that police in no way should give free hand to CRPF personnel.When asked that CRPF personnel ransacked the Batamaloo shrine, beat people and smashed window panes in Dhobi Mohalla and...

Letter to Defense Minister of India and CM of Karnataka

To                                                                                                                                  March 7, 2013 1. The Hon'ble Defence Minister oflndia, Shri A.K. Antony, 9, Krishna Menon Marg, New Delhi. 2. The Hon'ble Chief Minister of Karnataka, Bangalore. Dear Sir, Re: Aijaz Ahmed Mirza It has come to my knowledge that one Aijaz Ahmed Mirza, a D.R.D.O. scientist of Bangalore, was sacked on the ground that he was implicated in the Hyderabad bomb blast case. lt was reported recently in the media that no evidence has been found against him by the N.I.A. which has declined to...